کیا گلگت بلتستان پاکستان کے زیر انتظام کشمیرکا حصہ ہیں؟

گلگت بلتستان کے شہری پاکستانی نہیں ہیں

پاکستان کی موجودہ حکومت نے سابق حکومت کے منظور کردہ گلگت بلتستان آرڈر میں ترمیم کیلیے مجوزہ ڈرافٹ  کی تیاری مکمل کر لی ہے۔  مجوزہ  ترامیم میں گلگت بلتستان کے شہریوں کو پاکستانی شہری تصور کرنے کی شق ختم کرنے سمیت دیگر ترامیم    شامل کی گئیں۔ ان ترامیم کے سامنے آتے ہی  یہ سوال ایک مرتبہ پھر ابھر کر سامنے آیا ہے کہ کیا  گلگت بلتستان  پاکستان کے زیر انتظام کشمیرکا حصہ  ہیں؟

 مجوزہ ترمیمی ڈرافٹ میں  دیگر ترامیم کے ساتھ گلگت بلتستان کے شہریوں  کوپاکستانی قرار دینے کی شق ختم کر دی  گئی ہے۔ڈرافٹ میں گلگت بلتستان کونسل کو بحال کرکے قانون سازی کے اختیارات دینے جبکہ کونسل میں پہلی مرتبہ وفاقی  حکومت اورگلگت بلتستان کے وزرائے قانون کو بطور نان ووٹنگ ممبر شامل کرنیکی تجویز  بھی شامل ہے، وزیر اعظم  پاکستان چیئرمین جی بی کونسل ہونگے،  جبکہ کونسل کے منتخب ممبران کی مدت5 سال ہی ہو گی۔  اسی طرح گلگت بلتستان کونسل کو اپنے رولز آف بزنس بنانے کے اختیارات حاصل ہونگے۔

بلتستان کا تفریحی مقام شنگریلہ

اس تجویز کے منظور ہونے کے بعد گلگت بلتستان کے شہری پاکستان کے شہری تصور نہیں ہونگے۔ مجوزہ ڈرافٹ میں جی بی آرڈر 2018ء کے آرٹیکل 75 میں ترمیم کرکے جی بی سپریم ایپلٹ کورٹ کے چیف جج کی تقرری چیئرمین گلگت بلتستان کونسل (وزیراعظم پاکستان) چیف جسٹس آف پاکستان سے مشاورت کے بعد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سپریم ایپلٹ کورٹ کے ججوں کی تقرری کی مدت کو تین سال بڑھا کر پانچ سال کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سپریم ایپلٹ کورٹ کیلئے بجٹ وفاقی حکومت کونسل کے ذریعے مہیا کرے گی۔

گلگت بلتستان کونسل کی بحالی

 گلگت بلتستان کونسل کا کنسولیڈیٹڈ فنڈ جو آرڈر 2018ء کے تحت ختم کیا گیا تھا، کو بھی بحال کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔ وفاقی وزیر امور کشمیر جی بی کونسل سیکرٹریٹ کا انچارج  ہوگا، چیئرمین کونسل اپنے فرائض کی انجام دہی کونسل سیکرٹریٹ کے ذریعے کرینگے۔ مجوزہ ترمیم کے تحت کونسل کے چیئرمین اپنے اختیارات کسی بھی ماتحت آفیسر کو تفویض کرسکیں گے۔ اگر کونسل کے بجٹ ریونیو میں کمی بیشی ہو اس کمی کو پورا کرنے کیلئے وفاقی حکومت اس کو گرانٹ ان ایڈ فراہم کریگی اور بجٹ کی منظوری چیئرمین کونسل دینگے۔

پاکستان کے  زیر انتظام شمالی علاقہ جات کو  جب ’گلگت بلتستان‘ کے نام سے نئی انتظامی حیثیت دی گئی تھی تو   مختلف حلقوں کی جانب سے ملا جلا رد عمل سامنے آیا تھا۔  گلگت بلتستان کے زیادہ تر لوگوں نے تو  اس تبدیلی کو خوش آیند قرار دیا تھا  لیکن اب بھی کچھ معاملات کے بارے میں جہاں گلگت اور بلتستان کے لوگوں کو تحفظات ہیں وہاں بیشتر کشمیری رہنماؤں کو بھی سخت اعتراضات ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے اعتراضات

بیس لاکھ سے زیادہ آبادی اور اور تقریباً تہتر ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے’گلگت بلتستان‘ کے  نام سے بننے والی اس اِکائی کے متعلق کشمیر کی بیشتر سیاسی جماعتوں کے اعتراضات متعلقہ علاقے کے لوگوں سے یکسر مختلف ہیں۔ علیحدگی پسند کشمیری رہنما امان اللہ خان سے لے کر جماعت اسلامی کے سابق امیر  عبدالرشید ترابی سمیت اکثر مقامی سیاستدانوں کو اعتراض ہے کہ گلگت اور بلتستان کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے جدا کر کے علیحدہ انتظامی حیثیت دینے سے ان کی  مسئلہ کشمیر پر طے شدہ پالیسی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ان کے خیال میں پاکستان کے زیر انتظام  سابق ریاست جموں و کشمیر   کے کسی بھی   حصے کی انتظامی، آءینی یا سیاسی حیثیت میں کسی بھی طرح کی تبدیلی  سے بھارت کو موقع مل جائے گا کہ وہ  جموں وکشمیر میں عارضی طور پر قائم  کنٹرول لائن کو عالمی سرحد تسلیم کرانے کے لیے پاکستان پر دباؤ بڑھا سکے۔ حال ہی میں بھارتی وزیر اعظم مودی اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ  پاکستان  کو کشمیر کے حوالے سے لگام ڈالنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کی سابق حکومتوں کی طرح  موجودہ حکومت جو تبدیلی کے نعرے  کی بدولت برسر اقتدار آئی ہے  گلگت بلتستان کے عوام کو سیاسی، انتظامی، مالی اور عدالتی طور پر خودمختار کرنے کے حوالے سے شدید دباو کا شکار ہے ۔ گلگت اور بلتستان کے متعلق پہلی بار سابق وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے اصلاحات کیں، بعد میں  ان کی بیٹی اور سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو ،  سابق صدور جنرل پرویز مشرف اور  آصف علی زرداری نے بھی ان علاقوں کی آئنی اور انتظامی حیثیت میں تبدیلیاں کی ہیں۔

 تاریخی حقائق کو دیکھا جائے تو گلگت اور بلتستان کا علاقہ  امرتسر معاہدے کے  وقت  سابق ریاست جموں وکشمیر کا حصہ نہیں تھا۔ ان علاقوں کو بعد میں ریاست کی عملداری میں دے دیا گیا تھاکیونکہ جب  مہاراجہ گلاب  سنگھ کے صاحبزادے رنبیر سنگھ  کشمیر کے حکمران بنے تو ان کی افواج نے گلگت اور بلتستان کو فتح کرکے کشمیر کا حصہ بنا لیا۔ جب ان کی گرفت کمزور پڑی اور حالات  کا رخ بدل گیا۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد پہلی پاک، بھارت جنگ کے نتیجہ میں پاکستان کے زیر انتظام آنے والے جموں و کشمیر کے جن حصوں کو شامل کیا گیا ان میں  گلگت اور بلتستان کا علاقہ بھی تھا۔

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.